صحیح مسلم حدیث ۶۵۵۱ - بیمار کی عیادت کی فضیلت
بیمار کی عیادت کی حدیث: جنت کے باغ کی خوش خبری
صحیح مسلم : ۶۵۵۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۵۱
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِيَانِ ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ : رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَفِي حَدِيثِ سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَائِدُ الْمَرِيضِ فِي مَخْرَفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ " .
ثوبان روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیمار کا پوچھنے والا (اس کے مکان پر جا کر) جنت کے باغ میں ہے جب تک وہ لوٹے۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۵۵۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں بیمار کی عیادت کی فضیلت بہت مختصر مگر اثر انگیز انداز میں بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیمار کا پوچھنے والا، یعنی جو اس کے گھر جا کر حال لیتا ہے، واپس آنے تک جنت کے باغ میں ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بیمار کی عیادت صرف سماجی رسم نہیں، بلکہ نیکی کا کام ہے۔ جب کوئی شخص بیمار کے پاس جاتا ہے، اس کا حال پوچھتا ہے، اسے حوصلہ دیتا ہے اور اس کی تنہائی کم کرتا ہے تو یہ عمل اللہ کے ہاں قدر رکھتا ہے۔ حدیث میں لمبی تفصیل نہیں، مگر پیغام صاف ہے: بیمار کو بھولنا نہیں چاہیے۔ بیمار کی عیادت کی حدیث ہمیں روزمرہ زندگی میں نرم دلی سکھاتی ہے۔ کسی کے دکھ میں شریک ہونا، اس کے لیے دعا کرنا اور واپس آنے تک اس نیکی میں رہنا اس روایت کا بنیادی مضمون ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیمار کی عیادت کو بڑی فضیلت والا عمل بتایا گیا ہے۔
- عیادت کرنے والا واپس آنے تک جنت کے باغ میں ہے۔
- بیمار کا حال پوچھنا مسلمان بھائی کے حق میں شامل ہے۔
- دکھ کے وقت کسی کو اکیلا نہ چھوڑنا اچھا عمل ہے۔
