صحیح مسلم حدیث ۶۵۵۰ - اللہ کے لیے بھائی سے ملنے کی روایت
اللہ کے لیے ملاقات کی روایت: بھائی چارہ اور خالص نیت
صحیح مسلم : ۶۵۵۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۵۰
قَالَ الشَّيْخُ أَبُو أَحْمَدَ ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ زَنْجُويَةَ الْقُشَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
مذکورہ بالاحدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۵۵۰ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث کے مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔ اس میں اصل بات وہی ہے کہ ایک شخص اپنے بھائی سے ملنے کے لیے دوسرے گاؤں گیا اور اس کا مقصد کوئی دنیاوی فائدہ یا احسان کا بدلہ نہیں تھا۔ وہ صرف اللہ کے لیے اس بھائی سے محبت کرتا تھا۔ فرشتے کے ذریعے اسے یہ خوش خبری دی گئی کہ اللہ تعالیٰ بھی اس سے محبت فرماتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے لیے محبت صرف دل کا دعویٰ نہیں، بلکہ کبھی یہ قدم اٹھا کر ملاقات کرنے، تعلق نبھانے اور بھائی کی خیر خواہی میں ظاہر ہوتی ہے۔ اللہ کے لیے ملاقات کی حدیث ان لوگوں کے لیے خاص یاد دہانی ہے جو دوستی کو صرف فائدے یا ضرورت سے جوڑتے ہیں۔ یہاں محبت کی بنیاد اللہ کی رضا ہے، اور یہی اس روایت کا اصل سبق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کے لیے محبت دنیاوی بدلے سے الگ ہو سکتی ہے۔
- بھائی سے ملاقات خالص نیت کے ساتھ ہو تو اس کی قدر ہے۔
- دینی محبت تعلقات کو پاکیزہ بناتی ہے۔
- حدیث میں اللہ کی محبت کی خوش خبری اسی خالص محبت سے جڑی ہے۔
