صحیح مسلم حدیث ۶۵۵۷ - نبی صلى الله عليه وسلم کی بیماری کی سختی
نبی صلى الله عليه وسلم کی بیماری کی سختی: عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت
صحیح مسلم : ۶۵۵۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۵۷
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : " مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَشَدَّ عَلَيْهِ الْوَجَعُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، وَفِي رِوَايَةِ عُثْمَانَ مَكَانَ الْوَجَعِ وَجَعًا .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی پر میں نے بیماری کی سختی نہیں دیکھی۔
صحیح مسلم حدیث ۶۵۵۷ کا خلاصہ
اس روایت میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا مشاہدہ بیان ہوا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی پر بیماری کی سختی نہیں دیکھی۔ حدیث کا مضمون بہت مختصر ہے، اس لیے اس سے باہر لمبی باتیں نہیں جوڑنی چاہییں۔ یہاں بس اتنا واضح ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بیماری کی سختی برداشت کی۔ یہ بات ایک بیمار مسلمان کے دل کو سنبھال سکتی ہے کہ بیماری آنا کسی کی کم قدری کی دلیل نہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جس تکلیف کا ذکر کیا، وہ ہمیں صبر، نرمی اور بیمار کے حال کا احساس سکھاتی ہے۔ نبی کی بیماری کی حدیث کو پڑھتے ہوئے ہمیں مریضوں کے ساتھ ہمدردی کرنی چاہیے اور یہ سمجھنا چاہیے کہ جسمانی تکلیف انسان کے لیے واقعی مشکل ہوتی ہے۔ اس روایت کا اصل پیغام بیماری کی شدت کا بیان ہے، نہ کہ کوئی اضافی حکم۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بیماری کی سختی کا ذکر آیا ہے۔
- بیماری کسی کی کمی یا بے قدری کی دلیل نہیں۔
- مریض کی تکلیف کو محسوس کرنا چاہیے۔
- حدیث کے مختصر متن سے باہر باتیں نہیں بڑھانی چاہییں۔
