حدیث ۶۵۵۶
صحیح مسلم : ۶۵۵۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۵۶
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : يَا ابْنَ آدَمَ ، مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي ، قَالَ يَا رَبِّ : كَيْفَ أَعُودُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ؟ قَالَ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلَانًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْهُ ؟ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَنِي عِنْدَهُ ؟ يَا ابْنَ آدَمَ ، اسْتَطْعَمْتُكَ فَلَمْ تُطْعِمْنِي ، قَالَ يَا رَبِّ : وَكَيْفَ أُطْعِمُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ؟ قَالَ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ اسْتَطْعَمَكَ عَبْدِي فُلَانٌ ؟ فَلَمْ تُطْعِمْهُ ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ أَطْعَمْتَهُ لَوَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي ؟ يَا ابْنَ آدَمَ ، اسْتَسْقَيْتُكَ فَلَمْ تَسْقِنِي ، قَالَ يَا رَبِّ : كَيْفَ أَسْقِيكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ؟ قَالَ : اسْتَسْقَاكَ عَبْدِي فُلَانٌ ، فَلَمْ تَسْقِهِ ، أَمَا إِنَّكَ لَوْ سَقَيْتَهُ وَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي ؟ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرمائے گا قیامت کے دن: ”اے آدم کے بیٹے! میں بیمار ہوا تو نے میری خبر نہ لی؟“ وہ کہے گا: اے پروردگار! میں تیری کیونکر خبر لیتا تو تو مالک ہے سارے جہاں کا۔ پروردگار فرمائے گا: ”تجھ کو معلوم نہیں میرا فلاں بندہ بیمار ہوا تھا تو نے اس کی خبر نہ لی۔ اگر تو اس کی خبر لیتا، تو مجھ کو پاتا اس کے نزدیک۔ اے آدم کے بیٹے! میں نے تجھ سے کھانا مانگا، تو نے مجھ کو کھانا نہ دیا؟“ وہ کہے گا: اے رب! میں تجھ کو کیسے کھلاتا، تو تو مالک ہے سارے جہاں کا۔ پروردگار فرمائے گا: ”کیا تو نہیں جانتا میرے فلاں بندہ نے تجھ سے کھانا مانگا تو نے اس کو نہ کھلایا اگر تو اس کو کھلاتا تو اس کا ثواب میرے پاس پاتا۔ اے بیٹے آدم کے! میں نے تجھ سے پانی مانگا، تو نے مجھ کو پانی نہ پلایا۔“ بندہ بولے: گا: میں تجھےکیونکر پلاتا تو تو مالک ہے سارے جہان کا۔ پروردگار فرمائے گا: ”میرے فلاں بندہ نے تجھ سے پانی مانگا تو نے اس کو نہیں پلایا اگر پلاتا تو اس کا بدلہ میرے پاس پاتا۔“
