صحیح مسلم حدیث ۶۵۶۰ - تکلیف میں گناہوں کا مٹنا

تکلیف سے گناہ جھڑنے کی حدیث: مسلمان کے لیے امید

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۶۰

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، وَيَحْيَي بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ كُلُّهُمْ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : نَعَمْ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَلَى الْأَرْضِ مُسْلِمٌ .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔

صحیح مسلم حدیث ۶۵۶۰ کا خلاصہ

یہ روایت بھی اسی مضمون کو بیان کرتی ہے کہ مسلمان کو بیماری یا تکلیف پہنچے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو گرا دیتا ہے۔ پچھلی روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت بخار کا ذکر بھی آیا تھا، اور پھر یہ بات فرمائی گئی کہ تکلیف گناہوں کے جھڑنے کا سبب بنتی ہے، جیسے درخت اپنے پتے گرا دیتا ہے۔ اس حدیث کا پیغام مریض یا پریشان مسلمان کے لیے امید ہے۔ جب انسان بیمار ہوتا ہے تو دل گھبرا سکتا ہے، جسم کمزور ہو جاتا ہے اور کبھی آدمی خود کو اکیلا محسوس کرتا ہے۔ ایسے وقت میں یہ حدیث یاد دلاتی ہے کہ تکلیف بے فائدہ نہیں رہتی، اللہ اس کے ذریعے گناہوں کو دور فرما سکتا ہے۔ البتہ حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ علاج چھوڑ دیا جائے؛ متن میں اصل بات تکلیف پر اللہ کی طرف سے گناہوں کے مٹنے کی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مسلمان کی بیماری یا تکلیف کو گناہوں کے جھڑنے سے جوڑا گیا ہے۔
  • درخت کے پتوں کی مثال امید پیدا کرتی ہے۔
  • بیماری میں صبر کے ساتھ اللہ سے خیر کی امید رکھنی چاہیے۔
  • حدیث سے علاج چھوڑنے کا حکم نہیں نکلتا، اصل مضمون اجر اور معافی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں