صحیح مسلم حدیث ۶۵۶۱ - مصیبت پر صبر اور گناہوں کی معافی
مصیبت پر صبر کی حدیث: کانٹا بھی درجے بڑھا سکتا ہے
صحیح مسلم : ۶۵۶۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۶۱
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، قَالَ : دَخَلَ شَبَابٌ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَى عَائِشَةَ وَهِيَ بِمِنًى وَهُمْ يَضْحَكُونَ ، فَقَالَتْ : مَا يُضْحِكُكُمْ ؟ قَالُوا : فُلَانٌ خَرَّ عَلَى طُنُبِ فُسْطَاطٍ فَكَادَتْ عُنُقُهُ ، أَوْ عَيْنُهُ أَنْ تَذْهَبَ ، فَقَالَتْ : لَا تَضْحَكُوا ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُشَاكُ شَوْكَةً فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا كُتِبَتْ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ وَمُحِيَتْ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ " .
اسود روایت:
قریش کے چند جوان لوگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے وہ منیٰ میں تھیں۔ وہ لوگ ہنس رہے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیوں ہنستے ہو؟ انہوں نے کہا: فلاں شخص خیمہ کی طناب پر گرا اس کی گردن یا آنکھ جاتے جاتے بچی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: مت ہنسو، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان کو اگر ایک کانٹا لگے یا اس سے زیادہ کوئی دکھ پہنچے تو اس کے لیے ایک درجہ بڑھے گا اور ایک گناہ مٹ جائے گا۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۵۶۱ کا خلاصہ
یہ حدیث مصیبت پر صبر اور مسلمان کی تکلیف کا احترام سکھاتی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے قریش کے نوجوانوں کو ایک شخص کے گرنے پر ہنستے دیکھا تو فوراً سمجھایا کہ کسی کی تکلیف پر ہنسنا مناسب نہیں۔ پھر انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا فرمان سنایا کہ مسلمان کو کانٹا لگے یا اس سے زیادہ کوئی دکھ پہنچے تو اس کے لیے ایک درجہ لکھا جاتا ہے اور ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ چھوٹی تکلیف بھی اللہ کے ہاں بے معنی نہیں۔ بیماری، چوٹ، درد اور پریشانی مومن کے لیے گناہوں کی معافی کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لیے ہمیں اپنی تکلیف میں صبر اور دوسروں کی تکلیف میں سنجیدگی اختیار کرنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی مسلمان کی تکلیف، چوٹ یا حادثے پر ہنسنا درست رویہ نہیں۔
- کانٹا لگنے جیسی معمولی تکلیف بھی اللہ کے ہاں اجر کا سبب بن سکتی ہے۔
- مصیبت مومن کے لیے درجے کی بلندی اور خطا کی معافی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
- دوسروں کے دکھ پر ہمدردی رکھنا اسلامی اخلاق کا حصہ ہے۔
