صحیح مسلم حدیث ۶۵۶۲ - مومن کی تکلیف اور درجات

مومن کی تکلیف: درجہ بلند یا گناہ معاف ہونے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۶۲

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُمَا ، وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ شَوْكَةٍ فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً ، أَوْ حَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً " .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ ”ایک درجہ بڑھے گا یا ایک گناہ مٹے گا۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۵۶۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں مومن کی معمولی سے معمولی تکلیف کی قدر بتائی گئی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مومن کو کانٹا چبھ جائے یا اس سے بڑھ کر کوئی تکلیف پہنچے تو اللہ اس کے ذریعے اس کا درجہ بلند فرماتا ہے یا اس کی خطا کم کر دیتا ہے۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ مومن کی زندگی میں آنے والی تکلیف بے مقصد نہیں ہوتی۔ درد، چوٹ، بیماری یا پریشانی انسان کو کمزور ضرور کرتی ہے، مگر اللہ کے ہاں اس کا بدلہ ضائع نہیں ہوتا۔ اس لیے مصیبت پر صبر کی حدیث ہمیں مایوسی سے بچاتی ہے۔ بندہ اپنی حالت پر شکوہ کم کرے، اللہ سے مدد مانگے اور یہ امید رکھے کہ یہ تکلیف اس کے لیے بہتری کا سبب بن سکتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مومن کی چھوٹی تکلیف بھی اللہ کے ہاں لکھی جاتی ہے۔
  • تکلیف کے ذریعے درجہ بلند ہونا یا خطا کم ہونا حدیث میں بیان ہوا ہے۔
  • مصیبت کے وقت صبر اور اللہ سے امید رکھنا مومن کا اچھا رویہ ہے۔
  • کانٹا لگنے جیسی بات کو بھی معمولی سمجھ کر ضائع نہیں کہنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں