صحیح مسلم حدیث ۶۵۶۳ - کانٹا اور خطاؤں کی کمی

کانٹا لگنے کی حدیث: چھوٹی تکلیف بھی خطا کم کر سکتی ہے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۶۳

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُصِيبُ الْمُؤْمِنَ شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا قَصَّ اللَّهُ بِهَا مِنْ خَطِيئَتِهِ " .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا صرف اتنا زیادہ ہے، ”ایک کانٹا یا اس سے زیادہ کچھ صدمہ ہو تو اللہ اس کی وجہ سے ایک گناہ ختم کر دے گا۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۵۶۳ کا خلاصہ

اس روایت میں مومن کے لیے ایک بڑی تسلی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مومن کو کانٹا لگے یا اس سے بڑھ کر کوئی صدمہ پہنچے تو اللہ اس کے سبب اس کی خطا کم کر دیتا ہے۔ حدیث کا انداز بہت سادہ ہے مگر پیغام بہت گہرا ہے: مومن کی تکلیف اللہ کے ہاں نظر انداز نہیں ہوتی۔ کبھی انسان سوچتا ہے کہ معمولی درد، چھوٹی چوٹ یا چھوٹی پریشانی کا کیا فائدہ؟ مگر اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسی تکلیف کو بھی بندے کے حق میں خیر بنا سکتا ہے۔ یہ بات ہمیں مصیبت پر صبر، شکر اور امید سکھاتی ہے۔ البتہ اس حدیث میں علاج چھوڑنے یا تکلیف مانگنے کی بات نہیں، بلکہ جو تکلیف آ جائے اس پر اللہ سے اجر کی امید رکھنے کی تعلیم ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مومن کو پہنچنے والی چھوٹی تکلیف بھی خطا کی کمی کا سبب بن سکتی ہے۔
  • کانٹا لگنے جیسی معمولی بات بھی اللہ کے علم اور کرم سے باہر نہیں۔
  • مصیبت آنے پر صبر کرنا اور اللہ سے بہتری کی امید رکھنا چاہیے۔
  • حدیث تکلیف مانگنے کا نہیں، آئی ہوئی تکلیف پر اجر کی امید کا سبق دیتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں