صحیح مسلم حدیث ۶۵۶۵ - مصیبت گناہوں کا کفارہ
مصیبت گناہوں کا کفارہ: کانٹے تک کی تکلیف کی حدیث
صحیح مسلم : ۶۵۶۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۶۵
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنْ مُصِيبَةٍ يُصَابُ بِهَا الْمُسْلِمُ إِلَّا كُفِّرَ بِهَا عَنْهُ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا " .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۵۶۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں مسلمان کے لیے بڑی امید ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کو جو مصیبت پہنچتی ہے، یہاں تک کہ کانٹا بھی چبھتا ہے، تو اس کے سبب اس کے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مومن کی تکلیف کو ضائع نہیں فرماتا۔ زندگی میں بیماری، درد، تھکن، چوٹ یا کوئی غم آ جائے تو بندہ یہ سمجھے کہ اللہ کے ہاں اس کا حساب ہے۔ یہ حدیث انسان کو شکوہ کم کرنے اور صبر اختیار کرنے کی طرف بلاتی ہے۔ البتہ اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ انسان علاج یا احتیاط چھوڑ دے۔ حدیث کا مقصد یہ بتانا ہے کہ جو تکلیف آ جائے، اگر بندہ ایمان کے ساتھ اسے برداشت کرے تو اللہ اسے گناہوں کی معافی کا سبب بنا سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمان کی مصیبت گناہوں کے کفارے کا سبب بن سکتی ہے۔
- کانٹا چبھنے جیسی معمولی تکلیف بھی اللہ کے ہاں لکھی جاتی ہے۔
- بیماری یا درد میں صبر اور امید کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
- حدیث علاج چھوڑنے کا نہیں، تکلیف پر اجر کی امید رکھنے کا سبق دیتی ہے۔
