صحیح مسلم حدیث ۶۵۷۶ - ظلم اور بخیلی سے بچو
ظلم قیامت کے دن تاریکیاں ہے: بخیلی سے بچنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۶۵۷۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۷۶
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اتَّقُوا الظُّلْمَ ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَاتَّقُوا الشُّحَّ ، فَإِنَّ الشُّحَّ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ حَمَلَهُمْ عَلَى أَنْ سَفَكُوا دِمَاءَهُمْ وَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَهُمْ " .
جابر بن عبداللہ انصاری روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچو تم ظلم سے کیونکہ تاریکیاں ہیں قیامت کی تاریکیوں میں سے۔ (ظالم کو راہ نہ ملے گی قیامت کے دن بوجہ تاریکی اور اندھیرے کے) اور بچو تم بخیلی سے کیونکہ بخیلی نے تم سے پہلے لوگوں کو تباہ کیا۔ بخیلی کی وجہ سے (مال کی طمع ہوئی) انہوں نے خون کیے اور حرام کو حلال کیا۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۵۷۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے دو خطرناک اخلاقی بیماریوں سے بچنے کا حکم دیا: ظلم اور شح، یعنی سخت بخیلی اور حرص۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن تاریکیاں ہے۔ پھر فرمایا کہ بخیلی سے بچو، کیونکہ اسی نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا، یہاں تک کہ اس نے انہیں خون بہانے اور حرام کو حلال سمجھنے پر آمادہ کیا۔ اس حدیث کا موضوع حقوق العباد، ظلم سے بچاؤ اور مال کی حرص سے حفاظت ہے۔ عام زندگی میں ظلم صرف مارنے پیٹنے کا نام نہیں؛ کسی کا حق روکنا، زیادتی کرنا یا ناجائز فائدہ اٹھانا بھی ظلم کی صورت بن سکتا ہے۔ حدیث ہمیں خبردار کرتی ہے کہ دل کی حرص انسان کو بڑے گناہوں تک لے جا سکتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ظلم سے بچنا ضروری ہے، کیونکہ حدیث میں اسے قیامت کی تاریکیوں کا سبب بتایا گیا۔
- سخت بخیلی اور حرص انسان کو تباہی کی طرف لے جا سکتی ہے۔
- پچھلے لوگوں کی تباہی سے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔
- مال، جان اور حرام و حلال کے معاملات میں حد سے بڑھنا خطرناک ہے۔
