صحیح مسلم حدیث ۶۶ - حدیث میں جھوٹ

حدیث میں جھوٹ: راوی کی سچائی کیوں ضروری ہے؟

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ أَبُو إِسْحَاق إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُفْيَانَ وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ : كَانَ عَمْرُو بْنُ عُبَيْدٍ يَكْذِبُ فِي الْحَدِيثِ.

یونس بن عبید روایت:

عمرو بن عبید حدیث میں جھوٹ بولتا ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۶۶ کا خلاصہ

اس روایت میں یونس بن عبید کا صاف قول نقل ہوا ہے کہ عمرو بن عبید حدیث میں جھوٹ بولتا تھا۔ روایت بہت مختصر ہے، مگر اس کا پیغام بڑا اہم ہے۔ حدیث کے علم میں راوی کی سچائی بنیادی چیز ہے۔ اگر کسی کے بارے میں اہل علم کو یہ معلوم ہو جائے کہ وہ حدیث میں جھوٹ بولتا ہے، تو اس کی روایت قبول نہیں کی جاتی۔ یہاں کسی لمبی بحث کے بجائے ایک واضح جرح نقل کی گئی ہے۔ حدیث میں جھوٹ، غیر معتبر راوی، راوی کی ثقاہت اور حدیث کی سند اس روایت کے اصل موضوعات ہیں۔ اس سے عام قاری کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ ہر سنائی گئی روایت کو فوراً قبول یا آگے بیان کرنا مناسب نہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حدیث میں جھوٹ بولنے والے راوی کی روایت قابل اعتماد نہیں رہتی۔
  • اہل علم راویوں کی حالت بیان کرتے تھے تاکہ حدیث محفوظ رہے۔
  • مختصر جرح بھی حدیث قبول کرنے میں اثر رکھتی ہے۔
  • دینی بات نقل کرنے میں سچائی بنیادی شرط ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں