صحیح مسلم حدیث ۶۶۱ - مسجد کی پاکی اور نرمی کا سبق

مسجد کی پاکی: نرمی، حکمت اور طہارت کا نبوی طریقہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۱

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ أَبِي طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَهُوَ عَمُّ إِسْحَاق ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ ، فَقَامَ يَبُولُ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَهْ ، مَهْ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُزْرِمُوهُ ، دَعُوهُ " ، فَتَرَكُوهُ حَتَّى بَالَ ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَاهُ ، فَقَالَ لَهُ : " إِنَّ هَذِهِ الْمَسَاجِدَ ، لَا تَصْلُحُ لِشَيْءٍ مِنْ هَذَا الْبَوْلِ ، وَلَا الْقَذَرِ ، إِنَّمَا هِيَ لِذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَالصَّلَاةِ ، وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ " ، أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَأَمَرَ رَجُلًا مِنَ الْقَوْمِ ، فَجَاءَ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ ، فَشَنَّهُ عَلَيْهِ " .

سیدنا انس بن مالک روایت:

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے مسجد میں، اتنے میں ایک دیہاتی آیا اور کھڑے ہو کر پیشاب کرنے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے کہا: ہائیں ہائیں کیا کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا پیشاب مت روکو، جانے دو۔“ لوگوں نے چھوڑ دیا۔ یہاں تک کہ وہ پیشاب کر چکا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلایا اور فرمایا: ”مسجدیں پیشاب اور نجاست کے لائق نہیں یہ تو اللہ کی یاد کے لئے اور نماز اور قرآن پڑھنے کے لئے بنائی گئی ہیں۔“ یا ایسا ہی کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ پھر ایک شخص کو حکم کیا وہ ایک ڈول پانی کا لایا اور اس پر بہا دیا۔

صحیح مسلم حدیث ۶۶۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں مسجد کی پاکی کا بہت صاف سبق ملتا ہے۔ ایک دیہاتی مسجد میں پیشاب کرنے لگا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے اسے روکنا چاہا، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے نہ روکو، اسے مکمل کرنے دو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نرمی سے سمجھایا کہ مسجدیں پیشاب اور گندگی کے لیے نہیں ہوتیں، بلکہ اللہ کے ذکر، نماز اور قرآن پڑھنے کے لیے بنائی گئی ہیں۔ اس کے بعد ایک ڈول پانی منگوا کر اس جگہ بہا دیا گیا۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد کی صفائی ضروری ہے، مگر اصلاح کرتے وقت نرمی، سمجھ داری اور موقع کی رعایت بھی ضروری ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مسجد کو پیشاب اور نجاست سے پاک رکھنا چاہیے۔
  • غلطی کرنے والے کو نرمی سے سمجھانا نبوی طریقہ ہے۔
  • مسجد کا اصل مقصد اللہ کا ذکر، نماز اور قرآن کی تلاوت ہے۔
  • ناپاک جگہ پر پانی بہا کر اسے صاف کیا جا سکتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں