صحیح مسلم حدیث ۶۶۱۸ - پاکی، اجر اور رحمت کا ذکر

مسلمان کے لیے پاکی، اجر اور رحمت کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۱۸

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ كِلَاهُمَا ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ مِثْلَ حَدِيثِهِ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عِيسَى جَعَلَ وَأَجْرًا فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَجَعَلَ وَرَحْمَةً فِي حَدِيثِ جَابِرٍ .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔

صحیح مسلم حدیث ۶۶۱۸ کا خلاصہ

یہ روایت بھی اسی مضمون کو بیان کرتی ہے، مگر اس میں الفاظ کے فرق کا ذکر ہے۔ ایک نقل میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے آخر میں پاکی اور اجر کے الفاظ آئے، اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں پاکی اور رحمت کے الفاظ بیان ہوئے۔ اس حدیث کا اصل فائدہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا مسلمان کے حق میں خیر کے معنی رکھتی ہے۔ ہمیں متن کے اندر رہ کر بات کرنی چاہیے: یہاں نہ عمومی بدزبانی کی اجازت بیان ہو رہی ہے، نہ کسی پر ظلم کا حکم، بلکہ خاص طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے الفاظ نقل کیے گئے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • روایت میں الفاظ کے فرق کو امانت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
  • پاکی، اجر اور رحمت سب مسلمان کے حق میں خیر کے الفاظ ہیں۔
  • حدیث کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خاص دعا کے طور پر سمجھنا چاہیے۔
  • متن سے باہر اضافی حکم گھڑنا درست نہیں۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں