صحیح مسلم حدیث ۶۶۳۴ - صلح کے لیے خیر کی بات

صلح اور خیر کی بات: اسی حدیث کی دوسری روایت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۳۴

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ صَالِحٍ ، وَقَالَتْ : وَلَمْ أَسْمَعْهُ يُرَخِّصُ فِي شَيْءٍ مِمَّا يَقُولُ النَّاسُ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ ، بِمِثْلِ مَا جَعَلَهُ يُونُسُ مِنْ قَوْلِ ابْنِ شِهَابٍ .

ابن شہاب روایت:

ابن شہاب رحمہ اللہ سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ صالح کی روایت میں ہے، انہوں نے کہا: میں نے نہیں سنا کہ لوگوں کو کسی جھوٹ میں رخصت دی گئی ہو سوائے تین مقامات کے، پھر یونس کی روایت کی طرح روایت بیان کی۔

صحیح مسلم حدیث ۶۶۳۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابن شہاب رحمہ اللہ سے اسی سند کے ساتھ پچھلی حدیث کی طرح روایت نقل ہوئی ہے۔ فرق یہ بتایا گیا کہ صالح کی روایت میں الفاظ آئے کہ لوگوں کو کسی جھوٹ میں رخصت نہیں سنی گئی مگر تین مقامات میں۔ پھر وہی مضمون بیان ہوا جو یونس کی روایت میں تھا۔ اس حدیث کا اصل موضوع صلح کرانا اور خیر کی بات کہنا ہے۔ یہاں بھی احتیاط ضروری ہے کہ اس رخصت کو عام جھوٹ کے لیے بہانہ نہ بنایا جائے، کیونکہ متن نے خاص مقامات بیان کیے ہیں۔ لوگوں میں صلح کرانے کے لیے خیر کی بات پہنچانا اس روایت میں پسندیدہ انداز کے طور پر سامنے آتا ہے، مگر بات وہی ہونی چاہیے جس سے فتنہ نہیں بلکہ اصلاح ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صلح کے لیے خیر کی بات پہنچانا متن میں آیا ہے۔
  • رخصت صرف خاص مقامات کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔
  • روایات کے لفظی فرق کو امانت کے ساتھ نقل کیا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں