صحیح مسلم حدیث ۶۶۳۶ - چغلی اور سچ جھوٹ کا انجام
چغلی سے بچو: سچائی اور جھوٹ کی حدیث
صحیح مسلم : ۶۶۳۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۳۶
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ مَا الْعَضْهُ هِيَ النَّمِيمَةُ الْقَالَةُ بَيْنَ النَّاسِ ، وَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ يَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ صِدِّيقًا ، وَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ كَذَّابًا " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگاہ ہو میں تم کو بتلاتا ہوں کہ بہتان قبیح کیا چیز ہے؟ وہ چغلی ہے جو لوگوں میں عداوت ڈالے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی سچ بولتا ہے یہاں تک کہ اللہ کہ نزدیک سچا لکھا جاتا ہے اور جھوٹ بولتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک جھوٹا لکھ لیا جاتا ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۶۳۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے پوچھنے کے انداز میں فرمایا کہ کیا میں تمہیں بتاؤں کہ بہتان قبیح کیا ہے؟ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ وہ چغلی ہے، یعنی لوگوں کے درمیان باتیں لے جانا جس سے عداوت پیدا ہو۔ اسی روایت میں سچ اور جھوٹ کا ذکر بھی آیا ہے۔ آدمی سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک سچا لکھا جاتا ہے، اور جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک جھوٹا لکھ لیا جاتا ہے۔ یہ حدیث زبان کی حفاظت، چغلی سے بچنے، سچ بولنے اور جھوٹ سے دور رہنے کا واضح سبق دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- چغلی لوگوں کے درمیان عداوت ڈالتی ہے۔
- سچ بولنے کی عادت انسان کو سچوں میں شامل کرتی ہے۔
- جھوٹ بولتے رہنا خطرناک عادت ہے۔
- زبان کے استعمال میں احتیاط ضروری ہے۔
