صحیح مسلم حدیث ۶۶۳۰ - دو منہ والا شخص بدترین لوگوں میں
دو منہ والا شخص: منافقانہ رویے سے بچنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۶۶۳۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۳۰
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے برا لوگوں میں تم اس کو پاتے ہو جو دو منہ رکھتا ہے ان لوگوں کے پاس ایک منہ لے کر آتا ہے اور ان لوگوں کے پاس دوسرا منہ لے کر جاتا ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۶۳۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ بدترین لوگوں میں وہ شخص بھی ہے جو دو منہ رکھتا ہے۔ وہ ایک لوگوں کے پاس ایک چہرہ لے کر آتا ہے اور دوسرے لوگوں کے پاس دوسرا چہرہ لے کر جاتا ہے۔ عام فہم زبان میں اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی ہر جگہ الگ رنگ دکھائے، ہر گروہ کو خوش کرنے کے لیے مختلف بات کرے، اور سچائی کے بجائے چالاکی سے کام لے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع دو رخا پن اور زبان کی خرابی ہے۔ یہ روایت ہمیں سادہ اور صاف کردار کی طرف بلاتی ہے۔ انسان کو بات میں ایک جیسا، نیت میں صاف، اور لوگوں کے درمیان فتنہ ڈالنے والے انداز سے دور رہنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دو رخا رویہ بدترین لوگوں کی خصلتوں میں سے ہے۔
- لوگوں کے سامنے الگ الگ چہرہ دکھانا مذموم ہے۔
- زبان اور کردار میں سچائی اختیار کرنی چاہیے۔
