صحیح مسلم حدیث ۶۶۳۱ - دو چہروں والے شخص کی مذمت

دو چہروں والا آدمی: سچائی کے خلاف رویہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۳۱

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ شَرَّ النَّاسِ ذُو الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ " .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔

صحیح مسلم حدیث ۶۶۳۱ کا خلاصہ

اس روایت میں نبی صلى الله عليه وسلم کا وہی فرمان نقل ہوا ہے کہ بدترین لوگوں میں دو چہروں والا شخص ہے۔ وہ ان لوگوں کے پاس ایک چہرہ لے کر آتا ہے اور ان لوگوں کے پاس دوسرا چہرہ لے کر جاتا ہے۔ یہ حدیث ہمارے روزمرہ معاملات سے بہت قریب ہے۔ کبھی آدمی ایک محفل میں ایک بات کرتا ہے اور دوسری جگہ اس کے خلاف بات کرتا ہے۔ حدیث ایسے رویے کو پسند نہیں کرتی۔ اس کا پیغام یہ ہے کہ انسان اپنی بات میں سیدھا رہے، لوگوں کو خوش کرنے کے لیے جھوٹا رنگ نہ بدلے، اور تعلقات میں سچائی کو بنیاد بنائے۔ دو رخا پن معاشرے میں بد اعتمادی پیدا کرتا ہے، اسی لیے نبی صلى الله عليه وسلم نے اس کی سخت مذمت فرمائی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ہر جگہ الگ بات کرنا خطرناک عادت ہے۔
  • دو چہروں والا رویہ بدترین لوگوں میں شمار کیا گیا۔
  • مسلمان کو بات اور کردار میں صاف ہونا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں