صحیح مسلم حدیث ۶۶۳۲ - دو رخا پن سے بچنے کی نصیحت
دو رخا پن کی حدیث: لوگوں کے درمیان صاف کردار
صحیح مسلم : ۶۶۳۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۳۲
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَجِدُونَ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ " .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۶۶۳۲ کا خلاصہ
یہ حدیث بھی اسی مضمون کو بیان کرتی ہے کہ تم بدترین لوگوں میں دو چہروں والے شخص کو پاؤ گے۔ وہ ایک لوگوں کے پاس ایک چہرہ لے کر آتا ہے اور دوسرے لوگوں کے پاس دوسرا چہرہ لے کر جاتا ہے۔ اس روایت میں الفاظ ہمیں ایک صاف اخلاقی بات سمجھاتے ہیں: آدمی کو لوگوں کے ساتھ ایک جیسا اور سچا رہنا چاہیے۔ اگر وہ ہر جگہ اپنی بات بدلتا رہے تو اس کی بات پر اعتماد نہیں رہتا۔ حدیث کا مرکزی لفظ ذو الوجهین ہے، یعنی دو چہروں والا۔ اس سے مراد وہ رویہ ہے جس میں انسان ہر گروہ کے سامنے الگ رنگ دکھاتا ہے۔ یہ حدیث ہمیں زبان، تعلقات اور کردار میں سچائی کا سبق دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دو رخا پن اعتماد کو خراب کرتا ہے۔
- حدیث میں ایسے شخص کو بدترین لوگوں میں بتایا گیا۔
- لوگوں کے ساتھ بات کرتے وقت صاف اور سچا رہنا چاہیے۔
