صحیح مسلم حدیث ۶۶۴۴ - مضبوط انسان کی پہچان
مضبوط شخص کون؟ غصے میں نفس پر قابو
صحیح مسلم : ۶۶۴۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۴۴
حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ ، قَالُوا : فَالشَّدِيدُ أَيُّمَ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ " .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۶۶۴۴ کا خلاصہ
یہ روایت بھی اسی معنی کو بیان کرتی ہے کہ اصل طاقت غصے کے وقت ظاہر ہوتی ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ پھر مضبوط شخص کون ہے؟ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مضبوط وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔ اس سے بات اور واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام میں مضبوطی کا معیار صرف جسمانی غلبہ نہیں۔ روزمرہ زندگی میں آدمی کو گھر، بازار، کام اور رشتوں میں ایسی باتیں پیش آتی ہیں جن سے غصہ آ سکتا ہے۔ ایسے موقع پر حقیقی پہلوان بننے کا راستہ یہ ہے کہ انسان اپنی زبان اور ہاتھ کو قابو میں رکھے۔ یہ حدیث غصہ کنٹرول کرنے اور نرم رویہ اختیار کرنے کی بہت صاف رہنمائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھے۔
- کشتی یا جسمانی غلبہ انسان کی اصل مضبوطی نہیں بنتا۔
- غصے میں رک جانا اور خود کو سنبھالنا قابل تعریف عمل ہے۔
