صحیح مسلم حدیث ۶۶۴۵ - غصہ روکنا ہی اصل بہادری ہے
غصہ روکنا: اصل بہادری کی حدیث
صحیح مسلم : ۶۶۴۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۴۵
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِهْرَامَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ كِلَاهُمَا ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ .
ابوہریرہ روایت:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۶۴۵ کا خلاصہ
یہ حدیث سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی مضمون کے ساتھ مروی ہے، یعنی حقیقی طاقت غصے کے وقت خود پر اختیار رکھنے میں ہے۔ یہاں پیغام بہت سیدھا ہے: کسی کو پچھاڑ دینا، بحث جیت لینا، یا اپنا زور دکھا دینا اصل کامیابی نہیں۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ جب اندر غصہ اٹھے تو انسان خود کو سنبھال لے۔ اس حدیث میں غصے پر قابو کا مضمون بہت عملی انداز میں آتا ہے، کیونکہ غصہ ہر انسان کو آ سکتا ہے۔ مگر ہر انسان یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ وہ اس غصے کو زبان، ہاتھ، یا برے رویے میں بدلنے دے یا نہیں۔ اس لیے یہ حدیث ہمیں صبر، ضبط اور اپنے نفس کی نگرانی کا سبق دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھے۔
- کشتی یا جسمانی غلبہ انسان کی اصل مضبوطی نہیں بنتا۔
- غصے میں رک جانا اور خود کو سنبھالنا قابل تعریف عمل ہے۔
