صحیح مسلم حدیث ۶۶۵۲ - لڑائی میں چہرے کو نشانہ نہ بنائیں
منہ پر مارنے کی ممانعت اور انسانی عزت
صحیح مسلم : ۶۶۵۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۵۲
حَدَّثَنَاه عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ : إِذَا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۶۶۵۲ کا خلاصہ
یہ روایت بھی اسی مضمون کو بیان کرتی ہے، البتہ اس میں الفاظ کے طور پر مارنے کا ذکر آتا ہے۔ اصل بات یہی ہے کہ جب کوئی شخص کسی سے لڑائی یا ضرب کی حالت میں ہو تو چہرے سے بچے۔ اس حدیث میں انسان کی عزت اور جسمانی حفاظت کا واضح سبق ہے۔ غصہ کبھی آدمی کو ایسی حرکت پر آمادہ کر دیتا ہے جس کا نقصان بعد میں زیادہ محسوس ہوتا ہے، خاص طور پر چہرے پر ضرب۔ اس لیے منہ پر مارنے کی ممانعت صرف ایک قانونی بات نہیں، بلکہ اخلاقی تربیت بھی ہے۔ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ سختی کے وقت بھی حد یاد رکھو، سامنے والا تمہارا بھائی ہے، اس کا چہرہ نشانہ نہ بناؤ۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- لڑائی یا مار پیٹ کی حالت میں چہرے سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔
- غصے میں بھی انسان کی عزت اور جسم کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
- چہرے پر ضرب لگانے سے خاص طور پر منع کیا گیا ہے۔
