صحیح مسلم حدیث ۶۶۵۳ - چہرے سے بچنے کی نبوی تعلیم
لڑائی میں چہرے سے بچنا کیوں ضروری ہے؟
صحیح مسلم : ۶۶۵۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۵۳
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيَتَّقِ الْوَجْهَ " .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۶۶۵۳ کا خلاصہ
اس روایت میں نبی صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے لڑے تو چہرے سے بچے۔ الفاظ بدلتے ہیں مگر پیغام وہی رہتا ہے: لڑائی میں بھی چہرے کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ یہ حدیث آج کے دور میں بھی بہت واضح رہنمائی دیتی ہے، کیونکہ غصے میں انسان جلدی ہاتھ اٹھا سکتا ہے اور بعد میں پچھتا سکتا ہے۔ چہرے پر مارنے کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ اسلام انسانی عزت کو صرف امن کی حالت میں نہیں، بلکہ جھگڑے کی حالت میں بھی باقی رکھتا ہے۔ اس میں خود پر قابو، دوسرے کے جسم کا احترام، اور حد سے نہ بڑھنے کا سبق شامل ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- لڑائی یا مار پیٹ کی حالت میں چہرے سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔
- غصے میں بھی انسان کی عزت اور جسم کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
- چہرے پر ضرب لگانے سے خاص طور پر منع کیا گیا ہے۔
