صحیح مسلم حدیث ۶۶۵۴ - منہ پر طمانچہ نہ مارنے کی حدیث
منہ پر طمانچہ نہ مارو: حدیث کا آسان سبق
صحیح مسلم : ۶۶۵۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۵۴
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلَا يَلْطِمَنَّ الْوَجْهَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی تم میں سے اپنے بھائی سے لڑے تو منہ پر طمانچہ نہ مارے۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۶۵۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں صاف الفاظ میں فرمایا گیا کہ جب کوئی اپنے بھائی سے لڑے تو منہ پر طمانچہ نہ مارے۔ یہ جملہ بہت واضح اور عملی ہے۔ کبھی غصے میں آدمی سمجھتا ہے کہ ایک طمانچہ معمولی بات ہے، مگر حدیث چہرے کو نشانہ بنانے سے منع کرتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ چہرے کی حفاظت کا معاملہ خاص توجہ رکھتا ہے۔ منہ پر مارنے کی ممانعت انسان کو یاد دلاتی ہے کہ غصہ وقتی ہوتا ہے، مگر اس کا اثر دیر تک رہ سکتا ہے۔ اس لیے لڑائی میں بھی انسان کو اپنی حد معلوم ہونی چاہیے۔ حدیث کا پیغام ہے کہ ہاتھ کو قابو میں رکھو اور چہرے کو نقصان سے بچاؤ۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- لڑائی یا مار پیٹ کی حالت میں چہرے سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔
- غصے میں بھی انسان کی عزت اور جسم کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
- چہرے پر ضرب لگانے سے خاص طور پر منع کیا گیا ہے۔
