صحیح مسلم حدیث ۶۶۵۵ - چہرے کا احترام اور نبوی حکم

چہرے کی حرمت: غصے میں بھی ادب

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۵۵

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ حَاتِمٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ ، فَلْيَجْتَنِبْ الْوَجْهَ ، فَإِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور ابن حاتم کی روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی تم میں سے اپنے بھائی سے لڑے تو اس کے منہ سے بچا رہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے آدمی کو اپنی صورت پر بنایا ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۶۵۵ کا خلاصہ

اس روایت میں چہرے سے بچنے کا حکم آتا ہے، اور ساتھ یہ بھی بیان ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر بنایا۔ اس جملے کے بارے میں علمائے کرام کے مطابق تفصیلی کلام موجود ہے، مگر یہاں حدیث کا براہ راست سبق یہ ہے کہ انسان کے چہرے کی بے ادبی اور اسے نشانہ بنانا مناسب نہیں۔ جب کوئی اپنے بھائی سے لڑے تو چہرے کو چھوڑ دے۔ چہرے پر مارنے کی ممانعت اس بات کو مضبوط کرتی ہے کہ غصے میں بھی آدمی کو دوسرے انسان کی عزت کا خیال رکھنا چاہیے۔ یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ لڑائی کے لمحات میں بھی انسان مکمل آزاد نہیں؛ اسے نبوی حد کے اندر رہنا ہے اور چہرے کو محفوظ رکھنا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • لڑائی یا مار پیٹ کی حالت میں چہرے سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔
  • غصے میں بھی انسان کی عزت اور جسم کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
  • چہرے پر ضرب لگانے سے خاص طور پر منع کیا گیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں