صحیح مسلم حدیث ۶۶۵۶ - لڑائی میں منہ پر نہ مارو
چہرے پر ضرب سے بچنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۶۶۵۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۵۶
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مَالِكٍ الْمَرَاغِيِّ وَهُوَ أَبُو أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيَجْتَنِبْ الْوَجْهَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی تم میں سے اپنے بھائی سے لڑے تو اس کے منہ سے بچا رہے (یعنی منہ پر نہ مارے)۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۶۵۶ کا خلاصہ
یہ روایت بھی اسی بات کو بیان کرتی ہے کہ جب کوئی اپنے بھائی سے لڑے تو اس کے منہ سے بچا رہے، یعنی منہ پر نہ مارے۔ اس میں غصے اور جسمانی جھگڑے کے وقت ایک صاف حد مقرر کی گئی ہے۔ انسان کبھی سخت ردعمل دینا چاہتا ہے، مگر حدیث اسے روکتی ہے کہ چہرے کو نشانہ نہ بناؤ۔ چہرے پر مارنے کی حدیث کا عملی فائدہ یہ ہے کہ آدمی جھگڑے میں بھی اپنے ہاتھ کو سوچ سمجھ کر استعمال کرے۔ اس سے سامنے والے کی عزت اور جسمانی حفاظت دونوں کا خیال رہتا ہے۔ یہ تعلیم ہمیں نرم مزاجی، حد شناسی، اور غصے میں بھی انسانیت کا لحاظ سکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- لڑائی یا مار پیٹ کی حالت میں چہرے سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔
- غصے میں بھی انسان کی عزت اور جسم کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
- چہرے پر ضرب لگانے سے خاص طور پر منع کیا گیا ہے۔
