صحیح مسلم حدیث ۶۶۵۸ - دھوپ میں سزا دینے پر سخت تنبیہ
ظلم سے بچنے کی حدیث: انسانوں کو نہ ستائیں
صحیح مسلم : ۶۶۵۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۵۸
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : مَرَّ هِشَامُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ عَلَى أُنَاسٍ مِنَ الْأَنْبَاطِ بِالشَّامِ ، قَدْ أُقِيمُوا فِي الشَّمْسِ ، فَقَالَ : مَا شَأْنُهُمْ ؟ قَالُوا : حُبِسُوا فِي الْجِزْيَةِ ، فَقَالَ هِشَامٌ : أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا " .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ وہ عجم کے کاشتکار تھے اور تیل ڈالنے کا ذکر نہیں ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۶۵۸ کا خلاصہ
یہ روایت اسی مضمون کو بیان کرتی ہے، مگر اس میں عجم کے کاشتکاروں کو دھوپ میں کھڑا کرنے کا ذکر ہے اور تیل ڈالنے کا ذکر نہیں۔ اصل پیغام پھر بھی وہی ہے کہ لوگوں کو دنیا میں ناحق عذاب دینا سخت خطرناک عمل ہے۔ سیدنا ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ نے یہ منظر دیکھا تو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی حدیث بیان کی کہ اللہ ایسے لوگوں کو عذاب دے گا جو لوگوں کو دنیا میں عذاب دیتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی سرکاری یا مالی معاملے میں بھی انسانوں کو ذلیل کرنا اور تکلیف دینا درست رویہ نہیں۔ ظلم سے بچنے کی حدیث ہمیں اختیار کے استعمال میں خوف خدا اور نرمی کی یاد دہانی کراتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دنیا میں لوگوں کو ناحق تکلیف دینا بہت خطرناک عمل ہے۔
- اختیار رکھنے والے شخص کو سزا دیتے وقت ظلم سے بچنا چاہیے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کی حدیث سن کر ظلم رکوانے کی کوشش کرنا اچھی بات ہے۔
