صحیح مسلم حدیث ۶۶۵۹ - حدیث سن کر ظلم روک دیا گیا
لوگوں کو عذاب دینے سے بچنے کا عملی سبق
صحیح مسلم : ۶۶۵۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۵۹
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ كُلُّهُمْ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ ، قَالَ : وَأَمِيرُهُمْ يَوْمَئِذٍ عُمَيْرُ بْنُ سَعْدٍ عَلَى فِلَسْطِينَ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَحَدَّثَهُ ، فَأَمَرَ بِهِمْ فَخُلُّوا .
ہشام روایت:
ہشام سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے لیکن اس میں اتنا زیادہ ہے کہ ان دنوں حاکم وہاں کا عمیر بن سعد تھا جو والی تھا فلسطین کا (فلسطین کہتے ہیں بیت المقدس اور اس کے اطراف کے شہروں کو) ہشام بن حکیم اس کے پاس گئے اور یہ حدیث بیان کی۔ اس نے حکم دیا۔ وہ لوگ چھوڑ دئیے گئے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۶۵۹ کا خلاصہ
اس روایت میں پچھلی حدیث کا مضمون آتا ہے، ساتھ یہ اضافہ ہے کہ اس وقت فلسطین کے والی عمیر بن سعد تھے۔ سیدنا ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس جا کر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی حدیث بیان کی، تو انہوں نے حکم دیا اور وہ لوگ چھوڑ دیے گئے۔ اس سے حدیث کا عملی پہلو سامنے آتا ہے۔ لوگوں کو تکلیف دینے کی ممانعت صرف سننے کی بات نہیں، بلکہ جب ظلم نظر آئے تو اسے روکنے کی کوشش بھی ہونی چاہیے۔ یہاں پیغام یہ ہے کہ ناحق عذاب دینا خطرناک ہے، اور حدیث سن کر حاکم نے لوگوں کو آزاد کر دیا۔ ظلم سے بچنا اور مظلوم کو تکلیف سے نکالنا اس روایت کا واضح سبق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دنیا میں لوگوں کو ناحق تکلیف دینا بہت خطرناک عمل ہے۔
- اختیار رکھنے والے شخص کو سزا دیتے وقت ظلم سے بچنا چاہیے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کی حدیث سن کر ظلم رکوانے کی کوشش کرنا اچھی بات ہے۔
