صحیح مسلم حدیث ۶۶۶۰ - اختیار میں ظلم نہ کرو
اختیار، جزیہ اور ظلم سے بچنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۶۶۶۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۶۰
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ هِشَامَ بْنَ حَكِيمٍ وَجَدَ رَجُلًا ، وَهُوَ عَلَى حِمْصَ يُشَمِّسُ نَاسًا مِنَ النَّبْطِ فِي أَدَاءِ الْجِزْيَةِ ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا " .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ ہشام بن حکیم نے ایک شخص کو دیکھا جو حمص کا حاکم تھا وہ کاشتکاروں کو دھوپ میں عذاب دے رہا تھا جزیہ دینے کے لیے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۶۶۰ کا خلاصہ
اس روایت میں بیان ہے کہ ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ نے حمص کے حاکم کو دیکھا کہ وہ جزیہ کے معاملے میں کچھ کاشتکاروں کو دھوپ میں تکلیف دے رہا تھا۔ انہوں نے فوراً رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا فرمان سنایا کہ اللہ ان لوگوں کو عذاب دے گا جو لوگوں کو دنیا میں عذاب دیتے ہیں۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ کسی حق یا مالی ذمہ داری کے نام پر بھی لوگوں کو ناحق جسمانی اذیت دینا درست نہیں۔ لوگوں کو تکلیف دینے کی حدیث ہر صاحب اختیار کو خبردار کرتی ہے کہ سزا یا دباؤ کے نام پر ظلم نہ کرے۔ اس روایت میں نرمی، عدل، اور انسانوں کے ساتھ رحم کا مضبوط پیغام موجود ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دنیا میں لوگوں کو ناحق تکلیف دینا بہت خطرناک عمل ہے۔
- اختیار رکھنے والے شخص کو سزا دیتے وقت ظلم سے بچنا چاہیے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کی حدیث سن کر ظلم رکوانے کی کوشش کرنا اچھی بات ہے۔
