صحیح مسلم حدیث ۶۶۶۱ - مسجد میں حفاظت کا ادب
مسجد میں حفاظت کی حدیث: تیر کی پیکان پکڑنے کا حکم
صحیح مسلم : ۶۶۶۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۶۱
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ : مَرَّ رَجُلٌ فِي الْمَسْجِدِ بِسِهَامٍ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمْسِكْ بِنِصَالِهَا " .
جابر روایت:
ایک شخص تیر لے کر مسجد میں آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان تیروں کی پیکانوں کو پکڑ لے۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۶۶۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع مسجد میں حفاظت اور دوسروں کو نقصان سے بچانا ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص تیر لے کر مسجد میں آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا کہ ان تیروں کی پیکانوں کو پکڑ لے۔ بات بہت سادہ ہے مگر سبق بہت بڑا ہے۔ مسجد امن، عبادت اور سکون کی جگہ ہے، اس لیے وہاں کوئی ایسی چیز کھلی حالت میں نہیں لے جانی چاہیے جس سے کسی کو چوٹ لگنے کا خطرہ ہو۔ اس حدیث میں مسجد کے آداب، مسلمانوں کی حفاظت، اور نقصان سے بچاؤ کی واضح تعلیم ملتی ہے۔ آج کے دور میں بھی یہی اصول ہر خطرناک چیز کے بارے میں سمجھا جا سکتا ہے کہ اسے احتیاط سے رکھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسجد میں ایسی چیز لے جاتے وقت احتیاط ضروری ہے جس سے کسی کو چوٹ لگ سکتی ہو۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسروں کی جسمانی حفاظت کا خیال رکھنے کی تعلیم دی۔
- عبادت کی جگہ پر امن اور سکون کا ماحول برقرار رکھنا چاہیے۔
- چھوٹی سی لاپرواہی بھی کسی مسلمان کے لیے تکلیف کا سبب بن سکتی ہے۔
