صحیح مسلم حدیث ۶۶۶۲ - مسلمان کو خراش سے بچانے کی تعلیم
مسلمان کو نقصان سے بچانے کی حدیث: کھلی پیکان نہ چھوڑیں
صحیح مسلم : ۶۶۶۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۶۲
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو الرَّبِيعِ ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ : حَدَّثَنَا ، وقَالَ يَحْيَي ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ رَجُلًا مَرَّ بِأَسْهُمٍ فِي الْمَسْجِدِ قَدْ أَبْدَى نُصُولَهَا ، " فَأُمِرَ أَنْ يَأْخُذَ بِنُصُولِهَا كَيْ لَا يَخْدِشَ مُسْلِمًا " .
جابر بن عبداللہ روایت:
ایک شخص مسجد میں تیر لے کر آیا ان کی پیکانیں کھولے ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی پیکانیں تھام لے تاکہ کسی مسلمان کو چرکہ نہ لگے۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۶۶۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بہت عملی بات سکھائی۔ ایک شخص مسجد میں تیر لے کر آیا اور ان کی پیکانیں کھلی ہوئی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کی پیکانیں تھام لو تاکہ کسی مسلمان کو چرکہ نہ لگے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں صرف بڑے نقصان سے بچانا ہی مطلوب نہیں، بلکہ معمولی خراش سے بچانا بھی اہم ہے۔ یہ مسجد کے آداب کی حدیث بھی ہے اور مسلمانوں کی حفاظت کی حدیث بھی۔ اصل پیغام یہ ہے کہ انسان اپنی چیزوں، اپنے ہاتھوں اور اپنے چلنے پھرنے سے دوسروں کو تکلیف نہ دے۔ اگر کوئی چیز خطرہ بن سکتی ہو تو اسے پہلے ہی محفوظ کر لینا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کھلی پیکان یا نوک دار چیز کو بے احتیاطی سے لے جانا درست نہیں۔
- مسلمان کو معمولی خراش سے بچانا بھی دینی ادب میں شامل ہے۔
- مسجد میں آنے جانے والے ہر شخص کو دوسروں کی حفاظت کا خیال رکھنا چاہیے۔
- احتیاط پہلے کر لی جائے تو بہت سی تکلیفوں سے بچا جا سکتا ہے۔
