صحیح مسلم حدیث ۶۶۶۴ - بازار اور مجلس میں حفاظت
بازار میں ہتھیار لے جانے کی حدیث: پیکان پکڑنے کی تاکید
صحیح مسلم : ۶۶۶۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۶۴
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ فِي مَجْلِسٍ ، أَوْ سُوقٍ وَبِيَدِهِ نَبْلٌ ، فَلْيَأْخُذْ بِنِصَالِهَا ، ثُمَّ لِيَأْخُذْ بِنِصَالِهَا ، ثُمَّ لِيَأْخُذْ بِنِصَالِهَا " ، قَالَ : فَقَالَ أَبُو مُوسَى : وَاللَّهِ مَا مُتْنَا حَتَّى سَدَّدْنَاهَا بَعْضُنَا فِي وُجُوهِ بَعْضٍ .
ابوموسیٰ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی تم میں سے مسجد یا بازار میں سے گزرے اور ہاتھ میں تیر ہوں تو چاہیئے کہ ان کے گانسے اپنے ہاتھ میں پکڑ لے، پھر گانسے پکڑ لے، پھر گانسے پکڑ لے، (تین بار فرمایا تاکید کے لئے)۔“ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی! ہم نہیں مرے یہاں تک کہ ہم نے تیر کو لگایا ایک دوسرے کے منہ پر۔ (یعنی آپس میں لڑے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے خلاف کیا)۔
صحیح مسلم حدیث ۶۶۶۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی مجلس یا بازار سے گزرے اور اس کے ہاتھ میں تیر ہوں تو ان کے گانسے اپنے ہاتھ میں پکڑ لے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین بار فرمائی، جس سے اس احتیاط کی اہمیت صاف سمجھ آتی ہے۔ بازار اور مجلس میں لوگ قریب قریب ہوتے ہیں، اس لیے کھلی نوک والی چیز سے کسی کو چوٹ لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ حدیث کا اصل سبق یہ ہے کہ مسلمان اپنی وجہ سے دوسروں کو تکلیف یا خطرے میں نہ ڈالے۔ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کا آخر میں ذکر اس بات کو مزید سنجیدہ بناتا ہے کہ جب احتیاط چھوڑ دی جائے تو نقصان ہو سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مجلس یا بازار میں تیر لے جاتے وقت نوک کو ہاتھ میں پکڑنا چاہیے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس احتیاط کو بار بار تاکید سے بیان فرمایا۔
- بھیڑ والی جگہوں پر انسان کو زیادہ ذمہ داری سے چلنا چاہیے۔
- ہتھیار یا نوک دار چیز سے لاپرواہی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
