صحیح مسلم حدیث ۶۶۶۳ - خیر کے کام میں بھی احتیاط
خیرات کرتے وقت احتیاط کی حدیث: تیر کی پیکان تھام کر چلنا
صحیح مسلم : ۶۶۶۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۶۳
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ أَمَرَ رَجُلًا كَانَ يَتَصَدَّقُ بِالنَّبْلِ فِي الْمَسْجِدِ أَنْ لَا يَمُرَّ بِهَا إِلَّا وَهُوَ آخِذٌ بِنُصُولِهَا " ، وقَالَ ابْنُ رُمْحٍ : كَانَ يَصَّدَّقُ بِالنَّبْلِ .
جابر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ایک شخص کو جو تیر بانٹتا تھا مسجد میں کہ تیر لے کر جب نکلے تو ان کی پیکان تھام لیا کرے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۶۶۳ کا خلاصہ
اس روایت میں بتایا گیا ہے کہ ایک شخص مسجد میں تیر بانٹتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ جب وہ تیر لے کر نکلے تو ان کی پیکان تھام لیا کرے۔ اس حدیث کا اہم پہلو یہ ہے کہ وہ شخص بظاہر ایک اچھا کام کر رہا تھا، یعنی تیر بانٹ رہا تھا، لیکن پھر بھی اسے حفاظت کی تاکید کی گئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نیکی کے کام میں بھی احتیاط چھوڑنا درست نہیں۔ اگر کوئی کام اچھے مقصد سے کیا جا رہا ہو، پھر بھی اس کے طریقے میں ایسا پہلو نہ ہو جس سے کسی مسلمان کو نقصان ہو۔ یہ حدیث خیرات، مسجد کے آداب، اور دوسروں کو تکلیف سے بچانے کا صاف پیغام دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نیکی کے کام میں بھی دوسروں کی حفاظت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
- مسجد میں تیر یا نوک دار چیز لے جاتے وقت پیکان پکڑنی چاہیے۔
- اچھا مقصد بے احتیاطی کی اجازت نہیں بن جاتا۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی زندگی کی چھوٹی باتوں میں بھی ادب سکھایا۔
