صحیح مسلم حدیث ۶۶۶۸ - ہتھیار کی طرف اشارہ کرنے کا خطرہ
ہتھیار سے دھمکانے کی حدیث: شیطان ہاتھ ڈگمگا سکتا ہے
صحیح مسلم : ۶۶۶۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۶۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُشِيرُ أَحَدُكُمْ إِلَى أَخِيهِ بِالسِّلَاحِ ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَحَدُكُمْ لَعَلَّ الشَّيْطَانَ يَنْزِعُ فِي يَدِهِ ، فَيَقَعُ فِي حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی تم میں سے اپنے بھائی کو نہ دھمکائے ہتھیار سے، معلوم نہیں شیطان اس کے ہاتھ کو ڈگمگائے (اور ہاتھ چل جائے)، پھر جہنم کے گڑھے میں جائے۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۶۶۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرے، کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ شاید شیطان اس کے ہاتھ کو ڈگمگا دے، پھر وہ جہنم کے گڑھے میں جا پڑے۔ یہ حدیث ہتھیار سے ڈرانے کی ممانعت کو بہت واضح انداز میں بیان کرتی ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ وہ صرف اشارہ کر رہا ہے، مگر خطرناک چیز ہاتھ میں ہو تو چھوٹی سی حرکت بھی بڑا نقصان بنا سکتی ہے۔ حدیث میں یہ بھی سمجھایا گیا کہ مسلمان کے ساتھ معاملہ کرتے وقت دل لگی یا غصہ دونوں میں حد سے نہیں گزرنا چاہیے۔ اسلحہ حفاظت کے لیے ہو سکتا ہے، مگر دھمکانے کے لیے نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی مسلمان کی طرف ہتھیار سے اشارہ کرنا خطرناک عمل ہے۔
- انسان اپنے ہاتھ پر مکمل بھروسہ کر کے بے احتیاط نہ ہو۔
- شیطان کی وجہ سے اچانک نقصان کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
- مذاق یا غصے میں اسلحہ استعمال کرنا بہت سنگین بات بن سکتی ہے۔
