صحیح مسلم حدیث ۶۶۶۶ - ہتھیار سے ڈرانے کی ممانعت
ہتھیار سے ڈرانے کی حدیث: بھائی کی طرف لوہا نہ اٹھائیں
صحیح مسلم : ۶۶۶۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۶۶
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَشَارَ إِلَى أَخِيهِ بِحَدِيدَةٍ ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَلْعَنُهُ حَتَّى يَدَعَهُ ، وَإِنْ كَانَ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی اپنے بھائی کو لوہے سے ڈرائے (یعنی ہتھیار سے) اس پر فرشتے لعنت کرتے ہیں جب تک اس سے باز نہ آئے اگرچہ وہ اس کا سگا بھائی ہو۔“ (اور اس کا مارنا منظور نہ ہو لیکن صرف ڈرا نے میں اتنا بڑا گناہ ہے۔ معاذ اللہ)۔
صحیح مسلم حدیث ۶۶۶۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنے بھائی کی طرف لوہے سے اشارہ کرے، فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ اس سے باز آ جائے، چاہے وہ اس کا سگا بھائی ہی کیوں نہ ہو۔ یہاں اصل موضوع ہتھیار سے ڈرانا اور مسلمان کو خوف میں ڈالنا ہے۔ حدیث بتاتی ہے کہ رشتہ داری یا مذاق اس کام کو معمولی نہیں بناتی۔ لوہا، چھری، تلوار، تیر یا کوئی بھی خطرناک چیز اگر کسی کی طرف ڈرانے کے انداز میں کی جائے تو یہ بہت سنجیدہ بات ہے۔ اسلام میں بھائی چارہ صرف زبان کی بات نہیں، بلکہ اس میں دوسرے کی جان، عزت اور سکون کا خیال بھی شامل ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی مسلمان کی طرف لوہے یا ہتھیار سے اشارہ کرنا سخت منع ہے۔
- سگا بھائی بھی ہو تو ہتھیار سے ڈرانا معمولی بات نہیں بنتی۔
- مسلمان کو خوف میں ڈالنا بھائی چارے کے خلاف ہے۔
- خطرناک چیز کے ساتھ مذاق سے بھی بچنا چاہیے۔
