صحیح مسلم حدیث ۶۶۶۷ - اسلحہ سے اشارہ نہ کریں
اسلحہ سے اشارہ کرنے کی حدیث: مذاق بھی خطرناک ہو سکتا ہے
صحیح مسلم : ۶۶۶۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۶۷
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۶۶۶۷ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی روایت کے معنی ہی کو بیان کرتی ہے کہ اپنے بھائی کی طرف لوہے یا ہتھیار سے اشارہ نہ کیا جائے۔ اس حدیث کا مرکزی سبق یہ ہے کہ کسی مسلمان کو ڈرانا، خاص طور پر خطرناک چیز سے، ایک سنجیدہ گناہ ہے۔ انسان کبھی اسے کھیل یا مذاق سمجھ لیتا ہے، لیکن حدیث اس معاملے کو بہت سخت انداز میں بیان کرتی ہے۔ بھائی اگر قریبی رشتہ دار بھی ہو، پھر بھی اسے خوف میں ڈالنے کی اجازت نہیں۔ ہتھیار سے ڈرانے کی حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ مسلمان کا ہاتھ دوسروں کے لیے امن کا سبب ہونا چاہیے، خطرے کا سبب نہیں۔ اس میں گھر، مجلس، بازار اور ہر جگہ کا ادب شامل ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہتھیار کے ذریعے خوف دلانا اسلام کے بھائی چارے کے خلاف ہے۔
- قریبی رشتہ ہونے سے خطرناک مذاق جائز نہیں ہو جاتا۔
- مسلمان کو اپنے ہاتھ اور چیزوں سے دوسروں کو محفوظ رکھنا چاہیے۔
- اسلحہ یا لوہے سے اشارہ کرنے میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔
