صحیح مسلم حدیث ۶۶۶۹ - راستے سے کانٹا ہٹانے کی فضیلت

راستے سے کانٹا ہٹانے کی حدیث: چھوٹی نیکی کی بڑی قدر

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۶۹

حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ ، وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ عَلَى الطَّرِيقِ ، فَأَخَّرَهُ فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص راہ میں جا رہا تھا، اس نے راہ پر ایک شاخ دیکھی کانٹوں کی تو اس کو سرکا دیا اللہ تعالیٰ نے اس نیکی کو قبول کیا اور اس کو بخش دیا۔“ (نووی رحمہ اللہ نے کہا: مسلمانوں کو ہر ایک طرح کا فائدہ دینے میں یہی ثواب ہے)۔

صحیح مسلم حدیث ۶۶۶۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا ذکر فرمایا جو راستے میں جا رہا تھا۔ اس نے راستے پر کانٹوں والی شاخ دیکھی تو اسے ہٹا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کو قبول فرمایا اور اسے بخش دیا۔ یہ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ نیکی صرف بڑے کاموں کا نام نہیں۔ کبھی ایک شاخ، کانٹا، پتھر یا کوئی تکلیف دینے والی چیز ہٹا دینا بھی اللہ کے ہاں پسندیدہ عمل بن جاتا ہے۔ حدیث میں اصل بات لوگوں کی آسانی اور تکلیف سے بچاؤ ہے۔ انسان جب راستے کو دوسروں کے لیے محفوظ بناتا ہے تو یہ ایک خاموش مگر بہت اچھا عمل ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا نیکی ہے۔
  • اللہ تعالیٰ چھوٹے خیر کے کام کو بھی قبول فرما سکتا ہے۔
  • دوسروں کے گزرنے کا راستہ محفوظ بنانا اچھی عادت ہے۔
  • نیکی کے لیے کبھی بہت بڑی چیز کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں