صحیح مسلم حدیث ۶۶۷۰ - مسلمانوں کی راہ صاف کرنا
مسلمانوں کے راستے سے شاخ ہٹانے کی حدیث
صحیح مسلم : ۶۶۷۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۷۰
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَرَّ رَجُلٌ بِغُصْنِ شَجَرَةٍ عَلَى ظَهْرِ طَرِيقٍ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَأُنَحِّيَنَّ هَذَا عَنِ الْمُسْلِمِينَ لَا يُؤْذِيهِمْ فَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ " .
ابوہریرہ روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص نے راہ میں کانٹوں کی ڈالی دیکھی تو کہا: اللہ کی قسم! میں اس کو ہٹا دوں گا مسلمانوں کے آنے جانے کی راہ سے تاکہ ان کو تکلیف نہ ہو، اللہ تعالیٰ نے اس کو جنت میں داخل کیا۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۶۷۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص نے راستے میں درخت کی ایک ڈالی دیکھی۔ اس نے کہا کہ اللہ کی قسم، میں اسے مسلمانوں کے راستے سے ہٹا دوں گا تاکہ انہیں تکلیف نہ ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسے جنت میں داخل فرمایا۔ اس حدیث کا اصل پیغام بہت واضح ہے: مسلمان دوسروں کے لیے راستہ آسان بناتا ہے۔ یہاں نیت بھی بیان ہوئی ہے کہ اس شخص نے مسلمانوں کو تکلیف سے بچانے کے لیے یہ کام کیا۔ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا صرف صفائی نہیں، بلکہ لوگوں کے حق کا خیال رکھنا بھی ہے۔ یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ عام زندگی کے چھوٹے کام بھی اللہ کے ہاں پسندیدہ ہو سکتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا اچھا عمل ہے۔
- نیکی میں دوسروں کو تکلیف سے بچانے کی نیت اہم ہے۔
- عام راستے کو محفوظ بنانا لوگوں کے حق کا خیال رکھنا ہے۔
- اللہ تعالیٰ چھوٹے خدمت کے کام کو بھی بڑا اجر دے سکتا ہے۔
