صحیح مسلم حدیث ۶۶۷۱ - راستے سے تکلیف دور کرنا

راستے سے درخت ہٹانے کی حدیث: لوگوں کو تکلیف سے بچانا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۷۱

حَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَقَدْ رَأَيْتُ رَجُلًا يَتَقَلَّبُ فِي الْجَنَّةِ فِي شَجَرَةٍ قَطَعَهَا مِنْ ظَهْرِ الطَّرِيقِ كَانَتْ تُؤْذِي النَّاسَ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جنت میں ایک شخص کو مزے اڑاتے دیکھا جس نے ایک درخت کو راہ میں سے کاٹ دیا تھا جس سے تکلیف ہوتی تھی لوگوں کو۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۶۷۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے جنت میں ایک شخص کو مزے میں دیکھا، جس نے راستے سے ایک ایسا درخت کاٹ دیا تھا جو لوگوں کو تکلیف دیتا تھا۔ یہ حدیث بہت آسان انداز میں سمجھاتی ہے کہ لوگوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا اللہ کے نزدیک پسندیدہ عمل ہے۔ یہاں بات صرف درخت کی نہیں، بلکہ ہر ایسی چیز کی ہے جو لوگوں کے گزرنے میں تکلیف کا سبب بنے۔ حدیث کا لفظی مضمون راستے کے درخت سے متعلق ہے، اس لیے ہمیں اسی پیغام کو سمجھنا چاہیے کہ راستہ بند کرنا، خطرناک چیز چھوڑنا یا تکلیف کا سبب بننا درست نہیں۔ مسلمان کا کام یہ ہے کہ وہ جہاں ممکن ہو، لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • لوگوں کو تکلیف دینے والی چیز راستے سے ہٹانا نیکی ہے۔
  • راستے کی حفاظت اور آسانی کا خیال رکھنا دینی ادب ہے۔
  • ایک ظاہری طور پر چھوٹا کام اللہ کے ہاں پسندیدہ ہو سکتا ہے۔
  • مسلمان کو عوامی جگہوں پر دوسروں کی سہولت کا خیال رکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں