صحیح مسلم حدیث ۶۶۷۲ - تکلیف دہ درخت کاٹنے کی فضیلت
تکلیف دینے والا درخت ہٹانے کی حدیث اور مسلمانوں کا حق
صحیح مسلم : ۶۶۷۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۷۲
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ شَجَرَةً كَانَتْ تُؤْذِي الْمُسْلِمِينَ ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَطَعَهَا فَدَخَلَ الْجَنَّةَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک درخت مسلمانوں کو تکلیف دیتا تھا، ایک شخص آیا اور اس نے وہ درخت کاٹ ڈالا، وہ جنت میں گیا۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۶۷۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک درخت مسلمانوں کو تکلیف دیتا تھا۔ ایک شخص آیا اور اس نے وہ درخت کاٹ دیا، تو وہ جنت میں گیا۔ حدیث کا پیغام سیدھا ہے کہ مسلمانوں کی راہ سے اذیت دینے والی چیز ہٹانا بہت اچھا عمل ہے۔ یہاں درخت کا ذکر ہے، کیونکہ وہ لوگوں کے لیے تکلیف کا سبب بن رہا تھا۔ اس سے ہمیں یہ بات سمجھ آتی ہے کہ راستے، گلی، مسجد، بازار یا عام گزرگاہ میں ایسی چیز چھوڑنا درست نہیں جس سے لوگوں کو مشکل ہو۔ راستے سے تکلیف دور کرنا ایک عملی خدمت ہے۔ یہ حدیث مسلمانوں کے حق، صفائی اور حفاظت تینوں کو ایک سادہ جملے میں سمجھا دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمانوں کو تکلیف دینے والی چیز ہٹانا پسندیدہ عمل ہے۔
- عام راستے میں رکاوٹ یا خطرہ باقی نہیں رہنے دینا چاہیے۔
- دوسروں کی سہولت کے لیے کام کرنا دین کے اچھے اخلاق میں سے ہے۔
- جس چیز سے لوگوں کو تکلیف ہو، اسے دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
