صحیح مسلم حدیث ۶۶۷۳ - مسلمانوں کی راہ سے کوڑا ہٹانا
مسلمانوں کی راہ سے کوڑا ہٹانے کی حدیث
صحیح مسلم : ۶۶۷۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۷۳
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَمْعَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْوَازِعِ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَرْزَةَ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، عَلِّمْنِي شَيْئًا أَنْتَفِعُ بِهِ ، قَالَ : " اعْزِلِ الْأَذَى عَنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ " .
ابوبرزہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! مجھ کو کوئی بات ایسی بتلائیے جس سے فائدہ اٹھاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں کی راہ سے کوڑا ہٹا دے۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۶۷۳ کا خلاصہ
سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جس سے میں فائدہ اٹھاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمانوں کی راہ سے کوڑا ہٹا دو۔ یہ حدیث بہت آسان اور عملی نصیحت دیتی ہے۔ انسان دین میں فائدہ چاہتا ہے تو اسے لوگوں کے لیے فائدہ مند بننا چاہیے۔ راستے سے کوڑا، کانٹا یا تکلیف دینے والی چیز ہٹانا ایک ایسا کام ہے جو ہر شخص کر سکتا ہے۔ اس حدیث کا اصل موضوع تکلیف دور کرنا اور مسلمانوں کے راستے کو صاف رکھنا ہے۔ یہ عمل زبان سے نصیحت کرنے سے پہلے ہاتھ سے خیر کرنے کی خوب صورت مثال ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمانوں کی راہ سے کوڑا ہٹانا نفع دینے والا عمل ہے۔
- دین کی مفید نصیحت کبھی بہت سادہ کام کی صورت میں ہوتی ہے۔
- لوگوں کے راستے کو صاف رکھنا اچھی دینی عادت ہے۔
- ہر شخص اپنی طاقت کے مطابق دوسروں کی تکلیف کم کر سکتا ہے۔
