صحیح مسلم حدیث ۶۶۸۰ - تکبر اللہ کی شان نہیں بانٹتا
تکبر کی حدیث: عزت اور بڑائی اللہ ہی کے لیے ہے
صحیح مسلم : ۶۶۸۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۸۰
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْأَغَرِّ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعِزُّ إِزَارُهُ ، وَالْكِبْرِيَاءُ رِدَاؤُهُ ، فَمَنْ يُنَازِعُنِي عَذَّبْتُهُ " .
سیدنا ابوسعید خدری اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عزت پرودگار کی ازار ہے اور بزرگی اس کی چادر ہے (یعنی یہ دونوں اس کی صفتیں ہیں)، پھر پروردگار فرماتا ہے جو کوئی یہ دونوں صفتیں اختیار کرے میں اس کو عذاب دوں گا۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۶۸۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بات بیان فرمائی کہ عزت اس کی ازار ہے اور بزرگی اس کی چادر ہے، پھر فرمایا کہ جو کوئی ان دونوں صفات میں مجھ سے مقابلہ کرے گا، میں اسے عذاب دوں گا۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع تکبر اور بڑائی ہے۔ انسان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ حقیقی عزت اور کبریائی اللہ ہی کے لیے ہے۔ بندے کے لیے مناسب راستہ عاجزی ہے، نہ کہ خود کو بڑا سمجھنا۔ یہ تکبر کی حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ بڑائی کا دعویٰ کرنا یا اپنے آپ کو دوسروں سے اوپر سمجھنا خطرناک رویہ ہے۔ حدیث میں بات بہت مختصر ہے مگر پیغام صاف ہے کہ اللہ کی خاص شان میں بندہ شریک نہیں بن سکتا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حقیقی عزت اور بڑائی اللہ تعالیٰ کی خاص شان ہے۔
- بندے کے لیے تکبر کے بجائے عاجزی مناسب ہے۔
- اللہ کی بڑائی میں مقابلہ کرنے والے کے لیے سخت وعید ہے۔
- اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھنا انسان کے لیے خطرناک دینی رویہ ہے۔
