صحیح مسلم حدیث ۶۶۸۱ - اللہ کی مغفرت پر فیصلہ نہ کرو
اللہ کی مغفرت کی حدیث: زبان، تکبر اور احتیاط
صحیح مسلم : ۶۶۸۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۸۱
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُعْتَمِرِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ جُنْدَبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَ : " أَنَّ رَجُلًا ، قَالَ : وَاللَّهِ لَا يَغْفِرُ اللَّهُ لِفُلَانٍ ، وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى ، قَالَ : مَنْ ذَا الَّذِي يَتَأَلَّى عَلَيَّ أَنْ لَا أَغْفِرَ لِفُلَانٍ ، فَإِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لِفُلَانٍ ، وَأَحْبَطْتُ عَمَلَكَ " أَوْ كَمَا قَالَ .
جندب روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص بولا: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ فلاں کو نہیں بخشے گا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کون ہے؟ وہ جو قسم کھاتا ہے کہ میں فلاں کو نہ بخشوں گا، میں نے اس کو بخش دیا اور اس کے (جس نے قسم کھائی تھی) اعمال لغو کر دیے۔“ (بیکار)۔
صحیح مسلم حدیث ۶۶۸۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ انسان کو اپنی زبان سے ایسے فیصلے نہیں کرنے چاہییں جو صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ ایک شخص نے قسم کھا کر کہا کہ اللہ فلاں کو نہیں بخشے گا۔ جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کون ہے جو میرے بارے میں قسم کھاتا ہے کہ میں فلاں کو نہیں بخشوں گا؟ پھر اللہ نے اس شخص کو بخش دیا اور قسم کھانے والے کے اعمال ضائع کر دیے۔ یہ حدیث اللہ کی مغفرت، زبان کی حفاظت، اور دینی غرور سے بچنے کی بہت واضح نصیحت ہے۔ کسی گناہ گار کو دیکھ کر ہمیں نصیحت کرنی چاہیے، مگر یہ کہنا کہ اللہ اسے کبھی معاف نہیں کرے گا، حدیث کے مطابق سخت غلط بات ہے۔ بندے کو اپنے انجام کا بھی ڈر رکھنا چاہیے اور دوسروں کے بارے میں نرمی سے بات کرنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی شخص کے بارے میں یہ قطعی فیصلہ نہ کیا جائے کہ اللہ اسے معاف نہیں کرے گا۔
- زبان سے نکلا ہوا غلط جملہ انسان کے اعمال کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
- دوسروں کے گناہ دیکھ کر غرور نہیں، بلکہ اپنے انجام کی فکر کرنی چاہیے۔
- اللہ کی مغفرت اللہ کے اختیار میں ہے، بندے کے دعوے میں نہیں۔
