صحیح مسلم حدیث ۶۶۸۲ - بظاہر کمزور مگر اللہ کے قریب
اللہ کے محبوب بندے: ظاہری حالت نہیں، باطنی مقام
صحیح مسلم : ۶۶۸۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۸۲
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " رُبَّ أَشْعَثَ مَدْفُوعٍ بِالْأَبْوَابِ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت لوگ پریشان بال غبارآلودہ دروازوں پر سے دھکیلے ہوئے ایسے ہیں کہ اگر اللہ کے اعتماد پر کسی بات کی قسم کھا بیٹھیں تو اللہ ان کی قسم کو سچا کر دے۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۶۸۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے شخص کا ذکر فرمایا جو بظاہر پریشان بال، غبار آلود اور لوگوں کے دروازوں سے دھکیلا ہوا ہوتا ہے۔ دنیا کی نظر میں اسے کوئی خاص مقام نہیں دیا جاتا، مگر اللہ کے ہاں اس کا حال الگ ہو سکتا ہے۔ حدیث کے الفاظ بتاتے ہیں کہ اگر ایسا بندہ اللہ کے بھروسے پر کسی بات کی قسم کھا بیٹھے تو اللہ اس کی قسم کو سچا کر دے۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ کسی انسان کو صرف کپڑوں، شکل، مال یا معاشرتی حیثیت کی وجہ سے کم تر نہ سمجھا جائے۔ تقویٰ اور اللہ سے تعلق دل کا معاملہ ہے۔ بظاہر کمزور مسلمان بھی اللہ کے نزدیک عزت والا ہو سکتا ہے۔ یہ حدیث عاجزی، حسنِ ظن اور لوگوں کی قدر کرنے کی طرف بلاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی انسان کو اس کی ظاہری حالت دیکھ کر حقیر نہ سمجھا جائے۔
- اللہ کے نزدیک عزت کا معیار مال، لباس یا شہرت نہیں۔
- بعض کمزور سمجھے جانے والے بندے اللہ کے ہاں خاص مقام رکھتے ہیں۔
- مومن کو لوگوں کے بارے میں اچھا گمان رکھنا چاہیے۔
