صحیح مسلم حدیث ۶۶۸۴ - لوگوں کو حقیر سمجھنے سے بچیں

ہلاک الناس والی حدیث: اپنی زبان اور دل کی اصلاح

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۸۴

حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ . ح وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ جَمِيعًا ، عَنْ سُهَيْلٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .

‏‏‏‏ سہیل سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح مروی ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۶۶۸۴ کا خلاصہ

یہ روایت پچھلی حدیث کے مضمون کو دوسری سند کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ اس کا سبق وہی ہے کہ انسان دوسروں کے بارے میں حقارت سے یہ نہ کہے کہ لوگ ہلاک ہو گئے۔ ایسی بات اس وقت خطرناک بنتی ہے جب کہنے والا اپنے آپ کو اچھا اور باقی لوگوں کو برا سمجھ رہا ہو۔ حدیث ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ دینی فکر رکھنے والا شخص بھی اپنی زبان کو نرم رکھے۔ معاشرے میں خرابی نظر آئے تو اصلاح، دعا اور اپنی ذمہ داری پر توجہ ہونی چاہیے، نہ کہ لوگوں کو نیچا دکھانا۔ یہ حدیث تکبر، بدگمانی اور خود پسندی کے خلاف ایک مختصر مگر مضبوط نصیحت ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی بات میں خیر خواہی رکھے، اپنے دل میں عاجزی رکھے، اور دوسروں کے انجام کا فیصلہ اللہ پر چھوڑ دے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ایک ہی تعلیم کو مختلف سند سے بیان کیا جانا اس نصیحت کی اہمیت دکھاتا ہے۔
  • لوگوں کے بارے میں حقارت بھری زبان سے بچنا چاہیے۔
  • اصلاح کا جذبہ اچھا ہے، مگر خود پسندی کے ساتھ نہیں۔
  • بندے کو اپنے انجام کی فکر دوسروں سے زیادہ کرنی چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں