صحیح مسلم حدیث ۶۶۹۱ - اچھی سفارش کا اجر
اچھی سفارش کی حدیث: ضرورت مند کے لیے بات کرنا
صحیح مسلم : ۶۶۹۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۹۱
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ طَالِبُ حَاجَةٍ أَقْبَلَ عَلَى جُلَسَائِهِ ، فَقَالَ : " اشْفَعُوا فَلْتُؤْجَرُوا وَلْيَقْضِ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ مَا أَحَبَّ " .
ابوموسیٰ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی حاجت لے کر آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں سے فرماتے: ”سفارش کرو تم کو ثواب ہو گا اور اللہ تعالیٰ تو اپنے پیغمبر کی زبان پر وہی حکم کرے گا جو چاہتا ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۶۹۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب کوئی حاجت مند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں سے فرماتے: سفارش کرو، تمہیں اجر ملے گا، اور اللہ اپنے نبی کی زبان پر وہی فیصلہ جاری کرے گا جو چاہے گا۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ کسی ضرورت مند کے لیے اچھی بات کہنا، اس کا مسئلہ مناسب طریقے سے آگے رکھنا، اور خیر کی سفارش کرنا نیکی ہے۔ اس میں نتیجہ انسان کے ہاتھ میں نہیں؛ فیصلہ اللہ کے حکم سے ہوتا ہے۔ لیکن بندہ خیر کی کوشش کرے تو اسے اجر کی امید دی گئی ہے۔ یہ حدیث جائز سفارش، ضرورت مند کی مدد، اور بھلائی میں تعاون کے بارے میں بہت واضح تعلیم دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ضرورت مند کے حق میں اچھی سفارش کرنا نیکی ہے۔
- نتیجہ اللہ کے اختیار میں ہے، مگر خیر کی کوشش قابل قدر ہے۔
- دوسروں کی حاجت میں مدد کرنا صحابہ کو بھی سکھایا گیا۔
- سفارش کا مقصد خیر اور مدد ہونا چاہیے۔
