صحیح بخاری حدیث ۱۴۳۲ - نیک سفارش کا اجر

نیک سفارش: حاجت مند کی مدد کا ایک آسان راستہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۳۲

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَهُ السَّائِلُ أَوْ طُلِبَتْ إِلَيْهِ حَاجَةٌ , قَالَ : اشْفَعُوا تُؤْجَرُوا ، وَيَقْضِي اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ " .

ابوموسیٰ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اگر کوئی مانگنے والا آتا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کوئی حاجت پیش کی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام سے فرماتے کہ تم سفارش کرو کہ اس کا ثواب پاؤ گے اور اللہ پاک اپنے نبی کی زبان سے جو فیصلہ چاہے گا وہ دے گا۔

صحیح بخاری حدیث ۱۴۳۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس کوئی مانگنے والا آتا یا کوئی حاجت پیش کی جاتی تو آپ صلى الله عليه وسلم صحابہ سے فرماتے کہ سفارش کرو، تمہیں اجر ملے گا، اور اللہ اپنے نبی کی زبان سے جو چاہے گا فیصلہ فرما دے گا۔ اس حدیث کا اصل موضوع نیک سفارش ہے۔ کبھی انسان کے پاس دینے کے لیے مال نہیں ہوتا، مگر وہ کسی حاجت مند کی بات آگے پہنچا سکتا ہے، اس کے حق میں اچھی بات کہہ سکتا ہے، یا مدد کا راستہ آسان بنا سکتا ہے۔ حدیث یہ بھی بتاتی ہے کہ فیصلہ اللہ کے حکم سے ہوتا ہے، مگر بندہ نیک سفارش کر کے اجر پا سکتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حاجت مند کے حق میں اچھی سفارش کرنا اجر کا سبب ہے۔
  • مال نہ ہو تو بھی نیکی کا راستہ کھلا رہتا ہے۔
  • سفارش نیک مقصد کے لیے ہو تو قابل قدر ہے۔
  • اصل فیصلہ اللہ کے حکم اور مشیت سے ہوتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں