صحیح مسلم حدیث ۶۷۱۳ - جس سے محبت ہو اسی کے ساتھ ہونا

جس سے محبت ہو اسی کے ساتھ ہونا: اللہ، رسول صلى الله عليه وسلم اور نیک لوگوں کی محبت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۱۳

حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَتَى السَّاعَةُ ؟ قَالَ : وَمَا أَعْدَدْتَ لِلسَّاعَةِ ؟ قَالَ : حُبَّ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، قَالَ : فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " ، قَالَ أَنَسٌ : فَمَا فَرِحْنَا بَعْدَ الْإِسْلَامِ فَرَحًا أَشَدَّ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ ، قَالَ أَنَسٌ : فَأَنَا أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، وَأَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ مَعَهُمْ ، وَإِنْ لَمْ أَعْمَلْ بِأَعْمَالِهِمْ .

انس بن مالک روایت:

ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! قیامت کب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے قیامت کے لیے کیا تیار کیا ہے؟“ وہ بولا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت کو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تو اسی کے ساتھ ہو گا جس سے محبت رکھے۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اسلام کے بعد کسی چیز سے اتنا خوش نہیں ہوئے جتنا اس حدیث کے سننے سے ہوئے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا:: میں تو محبت رکھتا ہوں اللہ سے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما سے اور مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میں ان کے ساتھ ہوں گا گو میں نے ان کے سے اعمال نہیں کئے۔

صحیح مسلم حدیث ۶۷۱۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ قیامت کب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے قیامت کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسی کے ساتھ ہو گے جس سے محبت رکھتے ہو۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اسلام کے بعد انہیں اس بات سے بڑھ کر خوشی نہیں ہوئی۔ پھر انہوں نے کہا کہ میں اللہ، اس کے رسول، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما سے محبت رکھتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ ان کے ساتھ ہوں گا، اگرچہ میرے عمل ان جیسے نہیں۔ یہ حدیث محبت رسول، محبت صحابہ، اور آخرت کی امید کے موضوع پر بہت معروف ہے۔ اس میں محبت کے ساتھ امید کا انداز ہے، نہ کہ اپنے عمل پر دعویٰ۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت مؤمن کے لیے بڑی خوشی کا سبب ہے۔
  • نیک لوگوں سے محبت آخرت کی امید کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔
  • سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اپنے اعمال کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ امید ظاہر کی۔
  • محبت کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے، کیونکہ ساتھ ہونا اسی سے جڑا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں