صحیح مسلم حدیث ۶۷۱۲ - بڑے عمل کا دعویٰ نہیں، محبت کا سہارا

میں نے کوئی بڑا سامان نہیں کیا: عاجزی اور محبت کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۱۲

حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَبْدٌ : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَعْرَابِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَثِيرٍ أَحْمَدُ عَلَيْهِ نَفْسِي .

انس بن مالک روایت:

دیہات سے ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، باقی حدیث اسی طرح ہے۔ اس میں یہ ہے کہ اس گنوار نے کہا: میں نے تو قیامت کے لیے کوئی بڑا سامان نہیں کیا ہے جس پر اپنی تعریف کروں۔

صحیح مسلم حدیث ۶۷۱۲ کا خلاصہ

یہ روایت اسی واقعے کا ایک پہلو بیان کرتی ہے کہ دیہات سے ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور قیامت کے بارے میں سوال کیا۔ اس نے اپنی تیاری کے بارے میں کہا کہ میں نے قیامت کے لیے کوئی ایسا بڑا سامان نہیں کیا جس پر اپنی تعریف کروں۔ یہ بات ایک مؤمن کی عاجزی کو ظاہر کرتی ہے۔ انسان اپنے اعمال کو بہت بڑا سمجھنے کے بجائے اللہ کے سامنے اپنی کمی مانتا ہے۔ اسی واقعے میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا ذکر بھی ہے، اور جواب میں یہ بشارت دی گئی کہ آدمی اسی کے ساتھ ہو گا جس سے محبت کرے۔ یہ حدیث محبت کے ساتھ عاجزی بھی سکھاتی ہے۔ قیامت کی تیاری، اعمال کی کمی کا احساس، اور اللہ رسول کی محبت اس روایت کے اہم سرچ موضوعات ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اپنے اعمال پر فخر کرنے کے بجائے عاجزی بہتر ہے۔
  • قیامت کی تیاری کے سوال پر انسان کو اپنے دل اور عمل کو دیکھنا چاہیے۔
  • اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بندے کے لیے امید کا سبب ہے۔
  • کمی کا احساس انسان کو اپنے رب کے سامنے نرم بناتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں