صحیح مسلم حدیث ۶۷۳۸ - ہر شخص کے لیے وہی آسان ہے

ہر شخص کے لیے آسان: تقدیر اور عمل کی تائیدی روایت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۳۸

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كُلُّهُمْ ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِ حَمَّادٍ ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔

صحیح مسلم حدیث ۶۷۳۸ کا خلاصہ

یہ روایت اسی معنی کو دوسری اسناد سے بیان کرتی ہے۔ اصل سوال یہی تھا کہ اگر جنت والوں اور دوزخ والوں کا علم ہو چکا ہے تو عمل کرنے والے کیوں عمل کرتے ہیں؟ جواب میں وہی جملہ آیا کہ ہر شخص کے لیے وہی آسان کیا گیا ہے جس کے لیے وہ پیدا ہوا۔ اس حدیث میں کوئی نیا حکم نہیں، مگر پچھلی بات کو مضبوط کیا گیا ہے۔ مرکزی لفظ “تقدیر اور عمل” ہے، کیونکہ قاری اسی سوال کے جواب کے لیے اس روایت تک آتا ہے۔ متن سے صاف سمجھ آتا ہے کہ اللہ کے علم کا اقرار کرتے ہوئے بھی بندہ عمل کا راستہ نہیں چھوڑتا۔ اس لیے اس روایت کو پڑھنے کا عملی فائدہ یہ ہے کہ آدمی تقدیر کی بحث میں الجھ کر عمل سے دور نہ ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جنت والوں اور دوزخ والوں کے بارے میں اللہ کا علم ثابت ہے۔
  • عمل کے سوال پر جواب دیا گیا کہ ہر شخص کے لیے اس کا راستہ آسان ہے۔
  • حدیث بندے کو عمل سے غافل نہیں ہونے دیتی۔
  • اللہ کے علم کے ساتھ بندے کی عملی ذمہ داری بھی باقی رہتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں