صحیح مسلم حدیث ۶۷۶۹ - بچے کے انجام پر احتیاط
بچے کے انجام پر احتیاط: جنت کی چڑیا والی روایت
صحیح مسلم : ۶۷۶۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۶۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَي . ح وحَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ . ح وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ كِلَاهُمَا ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَي ، بِإِسْنَادِ وَكِيعٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ .
طلحہ بن یحییٰ سے وکیع کی سند کے مطابق اسی طرح مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۷۶۹ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث کے مضمون کو دوسری سندوں سے بیان کرتی ہے۔ اس میں اصل بات یہی ہے کہ بچے کے بارے میں جنت کی چڑیا کہنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو اللہ کے علم اور تقدیر کی طرف متوجہ فرمایا۔ اس حدیث کو سمجھتے ہوئے ہمیں متن سے باہر دعوے نہیں بنانے چاہییں۔ روایت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ نرمی، امید اور حسن ظن اپنی جگہ ہیں، مگر غیب کا قطعی فیصلہ اللہ ہی کے پاس ہے۔ جنت کی چڑیا حدیث، بچے کا انتقال، اور تقدیر کے مسئلے میں یہی محتاط انداز بہتر ہے کہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسی پر رک جائیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک ہی مضمون کئی سندوں سے نقل ہو سکتا ہے۔
- غیبی انجام کے بارے میں زبان کو قابو میں رکھنا چاہیے۔
- اللہ جنت اور جہنم کے اہل کو جانتا ہے۔
- حدیث کے الفاظ سے آگے بڑھ کر دعویٰ نہیں کرنا چاہیے۔
